7 مارچ 2013 - 20:30

پاکستان ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کے حتمی ہونے کی صورت میں امریکہ کی بے چینیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ پاکستان پر ممکنہ دباو ڈال رہا ہے کہ وہ اس معاہدہ کو حتمی کرنے کی صورت میں پابندوں کا سامنا کرنے گا

ابنا: جیسے جیسے پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہا ہے امریکہ کی دھمکیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، امریکہ جو پوری دنیا پر اپنی چلانا چاہتا ہے۔ اس کا یہ خیال خام ہے کہ دنیا کا کوئی ملک اس سے مشورہ کئے بغیر یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہ کر لے۔ کل جمعرات کو ایک بار پھر امریکہ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس سمت نہ جائے کہ اس پر پابندیاں لگائی جائیں۔جب اس بارے  میں تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نیولنڈ نے کہا کہ امریکہ نے پہلے ہی یہ واضح کردیا تھا کہ مجوزہ گیس پائپ لائن امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہے جبکہ انہوں نے پاکستان کی توانائی کی ضرورت کو تسلیم کیا۔نیولنڈ نے کہا کہ امریکا پاکستان کی ان ضروریات سے واقف ہے اور پاکستان کے ساتھ ‘قریبی شراکت داری’ کررہا ہے تاکہ ان کا کوئی ‘بہتر حل’ نکالا جاسکے۔دوسری جانب صدر آصف علی زرداری پیر کو ایران پاکستان گیس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کے لئے ایران جائیں گے، تقریب میں شرکت کے لئے کئی سربراہان مملکت کو دعوت دی گئی ہے، یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان معظم اے خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتائی۔ این این آئی کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے امریکی دباﺅ کے باوجود اربوں ڈالر کے پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرینگے۔ اے پی پی کے مطابق ترجمان نے کہا ایران پاکستان گیس منصوبہ پاکستان کا قومی مفاد ہے اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں، پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشی اور سماجی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا امریکہ سمیت کئی ممالک کی طرف سے مطالبات سامنے آئے ہیں اور واشنگٹن سے ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا امریکہ سمیت پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کی معاشی مجبوریوں کو سمجھیں گے۔ انہوں نے بتایا امریکہ کی طرف سے اس منصوبے پر کوئی باضابطہ احتجاجی نوٹ نہیں ملا، صرف بیانات سامنے آئے ہیں۔...............242